السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک قرآن شریف ہے جو بہت پورانہ ہے اس قرآن پاک کاحروف صاف صاف نہیں دیکھ رہا ہے تو اب اس قرآن پاک کو کیا جائے کیا کسی مسجد یا مدرسہ میں رکھ دیا جائے ؟ ســــائل محـمّـــد طــارق ممبئـی
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
بسـم اللـہ الرحمٰـن الرحیـم
الجــوابـــــــــــ بعون الملک الوہاب
ایسا بوسیدہ ناقابل تلاوت قرآن مجید جسکے اوراق منتشر ہوکر ضائع ہونے کا اندیشہ ہو تو اسکو کسی پاک کپڑے میں لپیٹ کر احتیاط کی جگہ دفن کر دیا جائے اور دفن کرنے میں اسکے لئے لحد بنائی جائے تاکہ اس پر مٹی نہ پڑے یا اس پر تختہ لگاکر چھت بناکر مٹی ڈالیں کہ اس پر مٹی نہ پڑے مگر اس کو جلایا نہ جائے
جیساکہ فتاویٰ ھندیہ میں ہے کہ المصحف اذا صارا خلقا لا یقرأ منہ و یخاف أن یضیع یجعل فی خرقۃ طاھرۃ و یدفن و دفنہ أولی من وضعہ موضعا یخاف أن یقع علیہ النجاسۃ أو نحو ذالک و یلحد لہ لأنہ لو شق و دفن یحتاج الی اھالۃ التراب علیہ و فی ذالک نوع تحقیر الا اذا جعل فوقہ سقف بحیث لا یصل التراب الیہ فھو حسن أیضا کذا فی الغرائب - المصحف اذا صار خلقا لو تعذرت القرأۃ منہ لا یحرق بالنار أشار الشیبانی الی ھذا فی السیر الکبیر و بہ نأخذ کذا فی الذخیرۃ " اھ( ج:5/ص:323/ الباب الخامس فی آداب المسجد والقبلۃ والمصحف وما کتب فیہ شئی من القرآن نحو الدراھم والقرطاس أو کتب فیہ اسم اللہ تعالیٰ / بیروت) اور ایسا ہی فتاوی رضویہ شریف ج:23/ ص:339/340/ مکتبہ دعوت اسلامی / میں ہے ـ اور ایسا ہی بہار شریعت ح:16/ص:495/ قرآن مجید اور کتابوں کے آداب / مجلس المدینۃ العلمیۃ دعوت اسلامی / میں ہے
واللــہ تــــــعالیٰ اعلـم بالصــواب
کتبـــــہ؛ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد اسرار احمد نوری بریلوی صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی خادم۔ التدریس والافتاء مدرسہ عربیہ اہل سنت فیض العلوم کالا ڈھونگی ضلع نینی تال اتراکھنڈ

0 Comments
ایک تبصرہ شائع کریں